Elementor #917

Published July 20, 2026 by hotumaraslamch1444@gmail.com

حدیثِ رسول ﷺ کی اہمیت

نبوت ایک ربانی ادارہ (Divine Institution) ہے، اور ہر ادارے کا بنیادی کام یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو انسانوں تک پہنچائے، اس کی وضاحت کرے اور اسے عملی طور پر نافذ کرے۔اللہ تعالیٰ نے اس ربانی ادارے، یعنی نبوت، کی قیادت اپنے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو عطا فرمائی۔حدیث کے لغوی معنی "بات" کے ہیں، اور اس کی ضد "قدیم" ہے۔ اصطلاح میں حدیث سے مراد وہ تمام اقوال، افعال، احوال، اوصاف اور تقریرات ہیں جو رسول اللہ ﷺ سے منقول ہوں۔یعنی آپ ﷺ نے کوئی بات ارشاد فرمائی، کوئی عمل کیا، یا آپ ﷺ کے سامنے کوئی عمل کیا گیا اور آپ نے اس پر خاموشی اختیار فرمائی یا اس کی تائید فرمائی، تو یہ سب حدیث کے دائرے میں شامل ہے۔قرآنِ کریم اور حدیث کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ان دونوں کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں متعدد مقامات پر فرمایا:"رسول تمہیں جو کچھ دیں اسے لے لو، اور جس چیز سے منع کریں اس سے رک جاؤ۔" اسی طرح اللہ تعالیٰ نے یہ اصول بھی عطا فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کو حلال و حرام کے احکام بیان کرنے کا اختیار عطا کیا گیا ہے۔قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا نبی پاکیزہ چیزوں کو حلال اور ناپاک چیزوں کو حرام قرار دیتا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے حلال و حرام کی تشریح کا اختیار اپنے رسول ﷺ کو عطا فرمایا۔ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے:"جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے درحقیقت اللہ کی اطاعت کی۔"اس آیت سے واضح ہو جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت دراصل اللہ تعالیٰ ہی کی اطاعت ہے۔اگر آپ قرآنِ مجید کا تفصیلی مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ قرآن اصول اور اجمالی احکام بیان کرتا ہے، جبکہ ان کی تفصیلات رسول اللہ ﷺ کی سنت اور حدیث سے معلوم ہوتی ہیں۔مثلاً قرآن نماز قائم کرنے کا حکم دیتا ہے، لیکن یہ نہیں بتاتا کہ نماز میں رکوع کیسے ہوگا، سجدہ کس طرح کیا جائے گا، قیام کی کیفیت کیا ہوگی، کون سی دعائیں اور تسبیحات پڑھی جائیں گی، اور ہر نماز کی کتنی رکعات ہیں۔یہ تمام تفصیلات ہمیں رسول اللہ ﷺ کی سنت اور حدیث سے معلوم ہوتی ہیں۔اسی طرح قرآن شراب کو حرام قرار دیتا ہے، لیکن نشہ آور دیگر اشیاء (Narcotics) کی تفصیلات بیان نہیں کرتا۔ نبی کریم ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ:"ہر نشہ آور چیز حرام ہے، اور جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ پیدا کرے، اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔"اسی طرح قرآن چور کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیتا ہے، لیکن یہ نہیں بتاتا کہ کتنی مالیت کی چوری پر یہ سزا نافذ ہوگی، یا اس کے شرعی شرائط کیا ہیں۔ان تمام امور کی وضاحت رسول اللہ ﷺ نے فرمائی۔قرآن بیت اللہ کے طواف کا حکم دیتا ہے، لیکن یہ نہیں بتاتا کہ طواف کے سات چکر ہوں گے، ابتدا حجرِ اسود سے ہوگی، اختتام کہاں ہوگا، یا طواف کا طریقہ کیا ہوگا۔اسی طرح قرآن نماز کا حکم دیتا ہے، لیکن یہ نہیں بتاتا کہ فجر کی دو رکعتیں ہیں، ظہر، عصر اور عشاء کی چار، اور مغرب کی تین رکعتیں ہیں۔یہ تمام تفصیلات اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولِ کریم ﷺ کے ذریعے امت تک پہنچائیں۔اسی لیے میں اکثر کہا کرتا ہوں کہ حدیث کے بغیر قرآن کو مکمل طور پر سمجھنا انتہائی مشکل ہے۔رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ ایک ہاتھ میں سونا اور دوسرے ہاتھ میں ریشم لے کر فرمایا کہ یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں۔لیکن بعض مخصوص حالات میں آپ ﷺ نے بعض صحابۂ کرام کو ریشم استعمال کرنے کی اجازت عطا فرمائی، جیسے حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ اور حضرت زبیر بن عوامؓ کو بیماری اور تکلیف کی وجہ سے ریشم پہننے کی اجازت دی گئی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن عمومی اصول بیان کرتا ہے، جبکہ ان اصولوں کی عملی تطبیق، تفصیل اور استثنائی صورتیں رسول اللہ ﷺ کی سنت سے معلوم ہوتی ہیں۔لہٰذا ہر مسلمان کو قدم قدم پر حدیثِ رسول ﷺ کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے، کیونکہ دین کی مکمل رہنمائی وہیں سے حاصل ہوتی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *